سویلین کا فوجی ٹرائل کیس، دو جج بینچ سے الگ،چیف جسٹس نے نیا 7 رکنی بینچ تشکیل دیدیا

سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت پر بینچ اٹھ کر چلا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت کہا کہ اٹارنی جنرل آپ روسٹرم پر آئیں کچھ کہنا چاہتا ہوں،عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار آئین کی شق 175 دیتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ صرف اور صرف آئین عدالت کو دائرہ سماعت کا اختیار دیتا ہے،ہر جج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے تحت سماعت کرے گا۔

اس موقع پرسردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں یہاں خوشی کا اظہار کرنا چاہتاہوں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس پر کہا کہ آپ سیاسی بیان باہر جاکردیں۔

واضح کرنا چاہتا ہوں کل مجھے تعجب ہوا کہ رات کو کاز لسٹ میں نام آیا،ان کا کہنا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو قانون بننے سے پہلے 8 رکنی بینچ نے روک دیا تھا،اس قانون کا کیوں کہ فیصلہ نہیں ہوا اس پر رائے نہیں دوں گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس سے پہلے ایک 3 رکنی بینچ جس کی صدارت میں 5 مارچ کو کررہا تھا،5مارچ والے فیصلے 31 مارچ کو ایک سرکولرکے ذریعے ختم کردیے جاتے ہیں،ایک عدالتی فیصلے کو رجسٹرار کی جانب سے نظر انداز کیا گیا،یہ عدالت کے ایک فیصلے کی وقعت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر اس سرکولر کی تصدیق کی جاتی ہے پھراسے واپس لیا جاتا ہے،غلطی ہوتی ہے ہم انسان ہیں، مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے،اس پر 8 اپریل کو میں نے نوٹ لکھا جو ویب سائیٹ پر لگا پھر ہٹا دیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں اس بینچ کو نہیں مانتا،لیکن سماعت سے معذرت نہیں کررہا،اس موقع پر جسٹس طارق مسعود نے کہاکہ میں قاضی فائز عیسی ٰکے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ آج کاز لسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست سب سے پہلے مقرر کر دی گئی،میں اس بینچ کو ”بینچ” تصور نہیں کرتا،میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا،اس وقت تک کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، ججز کو زحمت دی،ا س موقع پر جسٹس طارق مسعود کا کہنا تھا کہ پہلے اُن درخواستوں کو سنا جائے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کیس میں بیٹھ کر سماعت کریں، یہ اہم کیس ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے 2ججز نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی بنیاد پر اعتراض کیا ہے،لیکن ان کو معلوم نہیں کہ اٹارنی جنرل نے اس کیس میں وقت لیا ہے،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا پتہ اس میں سٹے ختم ہو،ہوسکتا اس میں مخلوق خدا کے حق میں فیصلہ ہو۔

اس موقع پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو کیس سننا چاہیے، چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ اس کا کچھ کرتے ہیں،اس کے بعد بینچ سماعت سے اٹھ کرچلا گیا۔ عدالتی عملے کے مطابق ڈیڑھ بجے دوبارہ بینچ سماعت کرے گا۔

Scroll to Top