بھارث ٹرین حادثہ، نوجوان مردہ خانہ سے زندہ نکل آیا

بھارت میں ٹرین کے المناک حادثے میں غم زدہ باپ سرتوڑ کوششوں کے بعد اپنے بیٹے کو مردہ خانے سے زندہ حالت میں لانے میں کامیاب ہوگیا۔

دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کورومنڈیل ایکسپریس پر سوار بیٹے کے باپ کو جب اس کی ’موت‘ کا علم ہوا تو اس نے اس خبر پر یقین نہیں کیا اور 230 کلو میٹر فاصلہ طے کر کے بالاسور کے عارضی مُردہ خانے سے اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا اور علاج کے لئے اپنے ساتھ کولکتہ لے گیا۔

24سالہ بِسواجیت ملک کو قسمت کے ستاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس کے والد ہیلا رام ملک نے اس کی موت کی خبر پر یقین نہیں کیا،بِسواجیت کی ہسپتال میں سرجری ہوئی وہ شدید زخمی ہے لیکن اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق اس کا والداپنے ساتھ ایمبولینس لے کر گیا تھا اور مسلسل 24 گھنٹے ایمبولینس میں گھومتا رہا لیکن ہار نہ مانی، کسی نے کہا کہ مردہ خانے جاؤ تو اس نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ میرا بیٹا زندہ ہے، اگر وہ مردہ خانے میں بھی ہے تب بھی اس میں زندگی موجود ہوگی۔

بسواجیت کے والد کو ایک اسکول کا بتایا گیا جہاں ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں رکھی گئی تھیں، وہ اسکول پہنچا تو لاشوں کا انبار تھا اور عملے نے ہر لاش کو دکھانے سے انکار کردیا۔

ابھی وہ عملے سے بحث کر ہی رہا تھا کہ اچانک وہاں شور شرابا ہونا شروع ہوا جب کسی نے دیکھا کہ ایک مردہ شخص کا دایاں ہاتھ کانپ رہا ہے، اس کے والد نے ہاتھ دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ اس کا بیٹا بسواجیت ہے، لپک کر بیٹے کو گلے لگالیا، اس میں سانسیں آرہی تھیں۔

کولکتہ میں بسواجیت کو ایک بڑے اسپتال کی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا اور دو سرجریاں ہوئیں اور اب نوجوان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

Scroll to Top